Wednesday, July 29, 2026

جب ہم نے دل کے رشتوں کو پرکھا

 

جب ہم نے دل کے رشتوں کو پرکھا

درویش کریم، آغا خان یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ / پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹر، گلگت

گلگت بلتستان ایجوکیشن فیلوز پروجیکٹ کے زیر سایہ ایک خاموش انقلاب برپا ہے۔ 1250 انتہائی تعلیم یافتہ اور نوجوان ، پرجوش اساتذہ کو بھرتی ، اور  انہیں بھرپور تربیت دے کر گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں 600 سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں میں تعینات کیا گیا ہے۔ مرکوز تربیت اور مستقل نگرانی کے ذریعے، ہم اساتذہ اور طلبہ کے مابین پیدا ہونے والے مثبت تعلیمی ماحول کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر متاثر کن کہانیاں سنتے ہیں؛ جہاں طلبہ اپنے ایجوکیشن فیلوز پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں، ان کے لیے دستی کارڈز بناتے ہیں جن میں ان کی لگن اور محنت کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ آخر اس کا راز کیا ہے؟ آغا خان یونیورسٹی / پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹر ہمیشہ تمام ایجوکیشن فیلوز پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے طلبہ کے ساتھ ایک مضبوط اور باوقار رشتہ استوار کریں۔ کیونکہ جب طالب علم متاثر ہوتا ہے، تو اس کا ذہن کھلتا ہے، اس کی توجہ مرکوز ہوتی ہے، اور وہ سیکھنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں، وادی اشکومن کی دلکش خاموشی میں، میں نے اس خوبصورت  رشتے کی حقیقی طاقت کا مشاہدہ کیا۔ یہ طاقت کسی کلاس روم کی سرگرمی یا امتحان کے نمبروں میں نہیں تھی، بلکہ یہ ننھی منی آوازوں کے اچانک خاموش ہو جانے اور آنسوؤں کی خاموش زبان میں  عیاں تھی۔

میں سرکاری گرلز مڈل اسکول گلوداس، ضلع غذر کا دورہ کر رہا تھا۔ میرے ہمراہ اس اسکول میں تعینات چار انتہائی محنتی ایجوکیشن فیلوز اور اسکول کے قابل احترام پرنسپل صاحب بھی تھے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان گہرائی کو سمجھنے کے لیے، میں جماعت ششم میں داخل ہوا۔

میں نے سادہ سے انداز میں گفتگو کا آغاز کیا۔ ’’پیارے بچو، آپ ان نوجوان اساتذہ سے کیسے پڑھائی کر رہے ہیں؟‘‘

اس کے بعد جو کچھ ہوا ،وہ تعریفی کلمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ جو کمرہ کچھ دیر پہلے خاموش تھا، اب جوش و خروش سے گونج رہا تھا۔ طالبات اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑی ہوئیں، ان کی آوازیں جوشیلی تھیں، وہ اپنے اساتذہ کے طریقہ تدریس، ان کی شفقت، ان کی سرگرمیوں پر مبنی تدریسی حکمت عملی اور ان کی لگن کی تعریف کر رہی تھیں۔ یہ ایک خوبصورت منظر تھا؛ ایک ایسا کلاس روم جو سیکھنے کے شوقین طلبہ کی توانائی سے بھرپور تھا۔ استاد اور شاگرد کا ایک ایسا  رشتہ عیاں تھا جس کو تقریباً ہر کوئی  محسوس کر سکتا تھا۔

پھر میں نے اس منظر کو ڈرامائی شکل دینے اور اس رشتے کی حقیقی گہرائی کو جانچنے کا سوچا۔

میں نے نرمی سے ان کے جوش و خروش کو روکتے ہوئے کہا، ’’میرے بچو! آپ جانتی ہیں کہ یہ ایجوکیشن فیلوز ایک خاص پروجیکٹ کا حصہ ہیں جسے گلگت بلتستان ایجوکیشن فیلوز پروجیکٹ کہتے ہیں۔ انہیں یہاں آپ کو بہترین سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، اور انہوں نے اپنی پوری صلاحیت سے آپ کی خدمت کی ہے۔ لیکن ان کا یہاں قیام ایک خاص مدت کے لیے تھا۔ اور آج... آج اس اسکول میں ان کا آخری دن ہے۔ کل سے وہ  دوسرے اسکول میں چلے جائیں گے۔‘‘

یہ اثر بجلی کی مانند تھا۔

خوشی اور جوش کی وہ گونجتی ہوئی آوازیں پل بھر میں خاموش ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں کی چمک صرف مدھم نہیں پڑی، بلکہ یکسر غائب ہو گئی، اور اس کی جگہ غم کے ایک گہرے، شدید سائے نے لے لی۔ وہ مسکراہٹیں جو ابھی تک چہروں پر کھلی جا رہی تھیں، جم گئیں اور پھر آہستہ آہستہ بے یقینی اور درد میں بدل گئیں۔ کمرے میں ایک گہری،  اور بھاری سی  خاموشی چھا گئی۔

میں دیکھ رہا تھا جیسے حقیقت ان پر واضح ہو رہی تھی۔ اگلی قطار میں بیٹھی چند بچیوں نے سر جھکا لیا۔ پھر ایک ہلکی سی سسکی نے خاموشی توڑی۔ میں نے دیکھا کہ کونے میں بیٹھی ایک ننھی بچی اپنے ہاتھ کے پچھلے حصے سے آنسو پونچھ رہی تھی، اس کے چھوٹے سے کندھے کانپ رہے تھے۔ سسکیاں آہستہ آہستہ رونے میں بدل گئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے دوسری بچیاں بھی شامل ہو گئیں، ان کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ رہے تھے۔ فضا اتنی جذباتی ہو گئی، اس بچھڑنے کے غم کا بوجھ اتنا بھاری تھا کہ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

ایک بہادر بچی نے آنسوؤں سے بھری آواز میں مگر پختہ عزم کے ساتھ آواز بلند کی، "سر، یہ بالکل مناسب نہیں ہے!"  اس نے روتے ہوئے کہا۔ "یہ ہمارے اساتذہ ہیں! وہ ہمیں سمجھتے ہیں۔ اب ہماری پڑھائی کون سنبھالے گا؟" اس کے الفاظ ایک بند ٹوٹنے کی مانند تھے۔ پورا کمرہ زار و قطار رونے لگا۔

میں وہاں سنبھل کر کھڑا رہ گیا۔ پرنسپل صاحب متاثر ہو کر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ہمارے ایجوکیشن فیلوز، اس محبت کے معمار، ان کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ اجتماعی غم کے اس لمحے میں، میں استاد اور شاگرد کا رشتہ نہیں دیکھ رہا تھا، بلکہ میں ایک خاندان کو بچھڑتے دیکھ رہا تھا۔

پچھتاوے کی لہر میرے اندر دوڑ گئی۔ میں نے ان کے سکون میں خلل ڈال دیا تھا۔ میں نے فوراً ہاتھ اٹھا کر انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کی۔

’’میری پیاری بچیو! براہ کرم، میری بات سنو۔ میں آپ تمام سے بے حد معذرت خواہ ہوں۔ میرا تمہیں پریشان کرنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں صرف اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ لوگ اپنے اساتذہ سے کتنی محبت کرتی ہو۔ اور آپ نے مجھے اس کا جواب دے دیا ہے۔‘‘

میں نے سسکیاں تھمنے تک انتظار کیا؛ ان کی نم آنکھیں اب امید اور الجھن کے درمیاں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔

’’یہ محض ایک آزمائش تھی،‘‘  میں نے نرمی سے سمجھایا۔ ’’تمہارے اساتذہ کہیں نہیں جا رہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہیں اور ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے، تمہاری بہترین خدمت کرتے رہیں گے۔‘‘

ایک پل کے لیے، وہاں حیران کن خاموشی چھا گئی۔ پھر انہیں حقیقت کا احساس ہوا۔ رونا نہیں رکا، لیکن اس کی نوعیت بدل گئی۔ غم کے آنسو اب راحت اور خوشی کے آنسو بن گئے۔ وہ تناؤ بھری خاموشی اب راحت کی اجتماعی آہوں میں بدل گئی، اور اس کے بعد شرمیلی، آنسوؤں سے لبریز مسکراہٹیں چہروں پر کھلنے لگیں۔

اس دن گلوداس میں، میں نے محض تعلیمی جانچ نہیں کی تھی۔ میں نے تعلیم کی اصل روح کو دریافت کر لیا تھا۔ ان بچوں کے رونے کا منظر مایوسی کا منظر نہیں تھا، بلکہ گلگت بلتستان ایجوکیشن فیلوز پروجیکٹ کی کامیابی کا سب سے گہرا ثبوت تھا۔

ہم اکثر نصاب کی تقسیم، سبق کے منصوبوں، اساتذہ کے پورٹ فولیو اور کلاس روم مینجمنٹ کی حکمت عملیوں پر بات کرتے ہیں۔ لیکن سب سے مضبوط کلاس روم مینجمنٹ کی حکمت عملی کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہے؛ یہ ایک رشتہ ہے۔ یہ وہ باوقار فاصلہ ہے جو اعتماد کے بندھن میں بدل جاتا ہے۔ یہ استاد کی وہ لگن ہے جو طالب علم کے دل میں محبت کا بیج بوتی ہے۔

یہ 1250 ایجوکیشن فیلوز محض علم منتقل نہیں کر رہے ہیں؛ وہ اسکول کی دیواروں کے اندر جذباتی پناہ گاہیں تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جب ایک بچہ اپنے استاد کے ساتھ محفوظ، اور پیار محسوس کرتا ہے، تو وہ نہ صرف سیکھتا ہے بلکھ پھلتا پھولتا ہے۔ گلوداس کے بچوں کے آنسو ان کے ایجوکیشن فیلوز کی محبت، شفقت اور بھر پور بھروسے  کا آئینہ تھے، اور اس عکس میں ہم نے اس پروجیکٹ کے حقیقی، دھڑکتے ہوئے دل کو دیکھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام قابل قدر ایجوکیشن فیلوز کو سلامت رکھے۔ مبارکباد!

 

۱۳ مارچ ۲۰۲۶

 

 

No comments:

Post a Comment

جب ہم نے دل کے رشتوں کو پرکھا

  جب ہم نے دل کے رشتوں کو پرکھا درویش کریم، آغا خان یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ / پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹر، گلگت گلگت بلت...